Posts

قدرت ہر انسان کو سدھرنے کا موقعہ ضرور دیتی ہے

اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور مجھے اس کے جسم کی ، میرے اندر کا شیطان پوری طرح جاگ چکا تھا جب میں کمرے میں اس کے پیچھے داخل ہوا وہ برقعہ پہن رہی تھی مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے،...

*" حرام کو چھوڑنے کا نتیجہ "*

 دمشق کے ادیب‏ *شیخ علی طنطاوی* نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ:  دمشق میں ایک بہت بڑی مسجد ہے کہ جو  *"مسجد جامع توبہ"* کے نام سے مشہور ہے- اس مسجد کا نام *مسجد توبہ* رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پہلے فحشاء ومنکرات کا مرکز تها ساتویں ہجری میں ایک مسلمان بادشاه نے اس کو خرید کر وہاں ایک  مسجد تعمیر کرائی- " ایک طالب علم کہ جو بہت زیادہ غریب, اور عزت نفس میں مشہور تها وہ اسی مسجد کے ایک کمرے میں ساکن تها- دو روز گزر چکے تھے کہ اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور اس کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تهی اور نہ ہی کھانا خریدنے کے لیے کوئی پیسہ اس کے پاس تھا  ... تیسرے روز بهوک کی شدت سے اس نے احساس کیا کہ وہ مرنے کے قریب ہے! سوچنے لگا کہ اب میں اضطراری حالت میں ہوں کہ شرعا حتی مردار اور یا حتی ضرورت کے مطابق چوری جائز ہے. اسی بنا پر چوری کا راستہ بہترین راه تهی.  [شیخ طنطاوی کہتے ہیں: یہ سچا واقعہ ہے اور میں ان لوگوں کو اچهی طرح جانتا ہوں اور اس واقعہ کی تفصیل سے اگاہ ہوں- اور میں صرف حکایت بیان کرونگا نہ حکم  نہ ہی فیصلہ ] یہ مسجد ایک قدیمی محلہ...

ہم ارب پتی ہیں

ایک بار *حضرت موسیٰ علیہ السلام* نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: ’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا *’’صحت‘‘۔* صحت اللہ تعالیٰ کا یقیناً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی- ☆ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ان پر غور کریں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں۔ ☆ مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے۔ ☆ مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاک...

تـــوبہ کــا بــیـان شہزادے_کی_توبہ

 ایک نیک شخص کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی۔ اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لئے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے نکلا اور چوراہے پر جا پہنچا۔ وہاں اس نے مختلف مزدوروں کو دیکھا جو کام کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان میں ایک نوجوان بھی تھا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا، اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا اس شخص کا کہنا ہے کہ، ''میں نے اس نوجوان سے پوچھا،'' کیا تم مزدوری کرو گے؟ ''نوجوان نے جواب دیا،'' ہاں! ''میں نے کہا،'' گارے کا کام کرنا ہو گا۔ ''نوجوان کہنے لگا،'' ٹھیک ہے! لیکن میری تین شرطیں ہیں اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے، دوسری شرط یہ ہے کہ مجھ سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے۔  ''میں نے یہ تینوں شرطیں قبول کر لیں اور اسے ساتھ لے کر گھر آگیا، جہاں میں نے اسے کام بتایا اور کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا۔ جب میں شام کے وقت واپس ...

رمضــــــان کــــــریم میں حوصلہ شکنی نہ کریں

جو لوگ پورا سال نمـــــــــــــاز اور قرآن نہیں پڑھتے  اور وہ رمضـــان کریم میں پڑھنے لگیں تو برائے مہــــــربانی ان کی اس کوشش کا یہ کہہ کر مذاق نہ اڑائیں  اور حوصلہ شکنی نہ کریں کہ " موسمی نمـــــازی ہے ایک مہینے کا مسلمان ہے اور ایسی بہت سی فضول باتیں" ایک بات کہ کوئی ایک دن پڑھے یا پورا سال اس نے اللہ پاک کے لیے پڑھنی ہے تو جس کے لیے پڑھنی ہے اس کو اعتراض نہیں تو آپ بھی گناہ نہ کمــــــائیں اور نہ ہی اپنی عبادتیں ایسے ضائع کریں کیوں کہ اللہ پاک کے یہاں یہ بھی ممکن ہے  کہ کسی کی ایک نماز اس کی بخشش کا ذریعہ بن جائے اور کسی کی زندگی بھر کی عبادت بھی اس کے کام نہ آئے۔۔  ابلیس کی مثال آپ کے سامنے ہے۔۔ دوسری بات رمضان کریم وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اکثر لوگ پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں یہاں تک کہ انھیں نماز کی اتنی عادت ہو جاتی ہے کہ وہ رمضان کے بعد بھی نماز نہیں چھوڑتے۔۔۔ اس لیے برائے مہربانی دوسروں کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کے لیے ان کی دل شکنی نہ کــــــــریں کیوں کہ اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے " کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی تو وہ اس ک...

اللہ والوں کی باتیں

عطاءالله شاہ بخاری فرماتے ہیں ـ کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں ـ جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے ـ میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا ـ جب میں *" الله الصمد "* پر پہنچا تو *" الله الصمد "* کا جو معنی آپ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا ـ حضرت نے *" الله الصمد "* کا معنی *”نراسترک“* لکھا ہوا تھا ـ جو میری سمجھ میں نہ آیا  ـ بڑا بےچین ہو گیا پھر مجھے خیال آیا جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں ـ حضرت عطاءالله شاہ بخاری لکھتے ہیں میں اس پنڈت کے پاس گیا اس سے ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں ـ؟ میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنا شروع ہو گیا ـ میں کافی پریشان ہو گیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہو گیا ـ کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا ـ الله کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے ـ؟ پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا میں نے جواب دیا ہاں کی...

قضا و قدر

میڈیکل کے کچھ سٹوڈنٹ کالج کے باہر خوش گپیوں میں مصروف تھے کے اچانک ایک گاڑی بڑی تیزی سے آئی اس نے درمیان میں کھڑے لڑکے کو ٹکر مار دی۔ باقی لڑکے بال بال بچ گئے جس لڑکے کو چوٹ لگی تھی اسے فوری ہسپتال منتقل کر دیا گیا،چونکہ وہ میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اس لیے اس کے باقی ساتھی بھی پہنچ گئےِ فوری طور پر خون کے نمونے لیے گئے علاج شروع ہوگیا۔ ایکسرے رپورٹ آگئی۔ ڈاکٹر نے اس کو بتایا کہ اس کے گردے کو سخت چوٹ لگی ہے۔ اس میں سے خون رِس رہا ہے۔ اگر فوری ہے۔ اگر فوری نہ نکالا گیا تو موت واقع ہو سکتی ہے۔میں آپ سے یہ فیصلہ لینے آیاہوں۔ وقت کم ہے آپ کو فوراً فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس سٹوڈنٹ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ فوری طور پر آپریشن ہوا اور گردے کو نکال کر لیباٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجوا دیا گیا۔2, 3 دن گزرے۔ سٹوڈنٹ ابھی تک اپنے بیڈ پر ہی تھا کہ وہ ڈاکٹر جس نے لڑکے کا آپریشن کیا تھا ، مسکراتاہوا اس کے پاس آیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ کیا کبھی تم نے قضا و قدر کے بارے میں سنا ہے؟ اسٹوڈنٹ نے کہا یہ تو درست ہے ہم قضا و قدر پر یقین رکھتے ہیں لیکن میرا نقصان کچھ زیادہ ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر کہنے لگا میں نے بھی تمہاری طرح قضاو...

گھاٹے کے سوداگر

ہنری کا تعلق امریکہ کے شہر سیاٹل سے تھا وہ مائیکرو سافٹ میں ایگزیکٹو منیجر تھا۔اس نے 1980 ء میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا اور اس کے بعد مختلف کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائیکرو سافٹ پہنچ گیا ٗ مائیکرو سافٹ اس کے کیرئیر میں ’’ہیلی پیڈ‘‘ ثابت ہوئی اور وہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا ٗوہ 1995ء میں کمپنی میں بھاری معاوضہ لینے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا جب تک ہنری کسی سافٹ وئیر کو مسکرا کر نہ دیکھ لے مائیکرو سافٹ اس وقت تک اسے مارکیٹ نہیں کرتی ٗ ہنری نے کمپنی میں یہ پوزیشن بڑی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی تھی وہ دفتر میں روزانہ16 گھنٹے کام کرتا تھا ٗ وہ صبح 8 بجے دفتر آتا تھا اور رات بارہ بجے گھر جاتا تھا ٗہنری کا ایک ہی بیٹا تھا ٗ ہنری دفتری مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ٗ وہ جب صبح اٹھتا تھا تو اس کا بیٹا سکول جا چکا ہوتا تھا اور وہ جب دفتر سے لوٹتا تھا تو بیٹا سو رہا ہوتا تھا ٗ چھٹی کے دن اس کا بیٹا کھیلنے کے لئے نکل جاتا تھا جبکہ ہنری سارا دن سوتا رہتا تھا۔ 1998ء میں سیاٹل کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ہنر...

*دلچسپ معلومات*_ _*ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﻭٔﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ*_ _*ﮐﻢ ﺳِﻦ ﺩﺍﺋﻮﺩؑ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﻓﺘﺢ*_

ﻗﻮﻡِ ﻋﻤﺎﻟﻘﮧ ﮐﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﻭ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﻒ ﺍٓﺭﺍ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﻀﺮﺕ ﻃﺎﻟﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻢ ﻋُﻤﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻠﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻧﻮ ﻋُﻤﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﺎﻥِ ﺣﺮﺏ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ، ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﻋﻮﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒّﺮ ﺳﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﮨﻞِ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕِ ﻣﺒﺎﺭﺯﺕ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺻﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﮐﻢ ﻋُﻤﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻋﻘﺎﺏ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﺮﻕ ﺭﻓﺘﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﻟﻠﮑﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ، ﻟﺤﯿﻢ ﺷﺤﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻟﻘﺎﻣﺖ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺗﻮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﺟﺎ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﻭﺭ ﮨﻮ ﺟﺎ، ﻣَﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ‘‘ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﮔﺮﺝ ﺩﺍﺭ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ۔ ‘‘ ﭘﮭﺮ ﻓﻠﮏ ﭘﺮ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺗﯿﺰ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺽ ﻭ ﺳﻤﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻏﻠﯿﻞ ﺳﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﻠﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﻟﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺘﮑﺒّﺮ ﺳَﺮ ﭘﺎﺵ ﭘﺎﺵ ﮨﻮ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍ...

اچھے وقت میں غرور سے بچنا اور مشکل وقت میں نا امید نہ ہونا ہی اہل دانش کی آزمائش ہے۔

*﷽* *السلام علیکم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ* اچھے وقت میں غرور سے بچنا اور مشکل وقت میں نا امید نہ ہونا ہی اہل دانش کی آزمائش  ہے۔ بہترین لوگ بہترین نیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے الله رب کائنات ان کے تمام کاموں کو خود سنوار دیتا ہے اور جب جس کام کو الله رب العزت سنوار دے تو اسے بهلا کوئی اس کا بندہ کیسے بگاڑ سکتا ہے۔ صحت و سلامتی کی ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ الله عزوجل آپ اور آپ کے خاندان کا ہمیشہ حامی و ناصر رہے۔ اے الله ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما۔ آمیـــــــــــــن یارب العالمین